1 دسمبر 2013 - 20:30
تھائی لینڈ میں مظاہرے جاری، وزیر اعظم کا استعفے سے انکار

تھا‏ئي لينڈ ميں حزب اختلاف کے مظاہروں اور ملک ميں پائي جانے والي سياسي بے چينيوں کے بڑھنے کے بعد وزير اعظم ينگ لک شيناواترا نے کہا ہے کہ وہ عوام کي خوشي کے لئے ہر کام کرنے کے لئے تيار ہيں ليکن کوئي بھي غيرآئيني قدم نہيں اٹھاسکتيں۔

ابنا: وزير ا‏عظم شيناواترنے پير کو اپنے بيان ميں کہا ہے کہ وہ ملک ميں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے وزارت عظمي کے عہدے سے مستعفي ہونے يا پھر پارليمنٹ تحليل کرنے کے لئے بھي تيار ہيں۔ تاہم انہوں نے مخالفين کے اس مطالبے کو مسترد کرديا کہ وہ حکومت عوام کے سپرد کريں۔ انہوں نے کہا کہ يہ عمل ملک کے آئين کے منافي ہے اور وزير اعظم کي حيثيت سے وہ کوئي بھي ايسا کام نہيں کرسکتيں جو غير آئيني ہو۔ مخالفين کے رہنما سوتپ تائونگسوبان نے اتوار کو وزير اعظم سے ہونے والي اپني ملاقات ميں ان سے کہا تھا کہ وہ حکومت عوام کے سپرد کرديں۔تھائي لينڈ ميں جاري پرتشدد مظاہروں ميں اب تک کم سے کم پانچ افراد مارے جاچکے ہيں جبکہ ايک سوستائيس افراد کے زخمي ہونے کي اطلاع ہے۔ اس سے پہلے تھائي لينڈ کي وزير اعظم نے کہا تھا کہ فوج ملک کے موجودہ سياسي بحران ميں مکمل طور پر غير جانبدار ہے اور مذاکرات کے لئے حکومت کے دروازے کھلے ہيں۔ انہوں نےبينکاک ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا فوج موجودہ صورتحال ميں غير جانبدار رہے گي اور وہ مسائل کو پرامن طريقے سے حل ہوتا ديکھنا چاہتي ہے ۔تھائي وزير اعظم نے يہ بھي کہا تھا کہ پوليس مظاہرين کے خلاف طاقت کا استعمال نہيں کرے گي۔تھائيلينڈ کي وزير اعظم نے اپنے عہدے سے استعفا دينے کي آمادگي کا اعلان ايک ايسے وقت کيا ہے جب ملک ميں مخالفين کے مظاہروں ميں غير معمولي شدت آگئي ہے  اور انہوں نے فوج اور پوليس کے ہيڈ کوارٹرپر  بھي قبضہ کرليا ہے۔ اس کے علاوہ مخالفين نے اب بھي بہت سي سرکاري عمارتوں کا محاصرہ کررکھا ہے جبکہ وزير اعظم کے دفتر ميں گھسنے کي مظاہرين کي  کوشش کوپوليس نے ناکام بناديا ہے۔......./169